بھٹکل4؍اپریل (ایس او نیوز) مفکراسلام مولانا محمد سراج الحسن کاجمعرات شام رائچور میں 87 ؍ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔جمعہ 3؍اپریل کی دوپہر جسد خاکی کو بڈی بابا قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا ۔مولانا کے انتقال پر نہ صرف رائچور بلکہ ریاست کرناٹک سمیت ملک کے مختلف شہروں کے ذمہ داران نے سخت افسوس کرتے ہوئے اظہار تعزیت کی ہے جس میں دینی، علمی، سماجی، سیاسی و دیگر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں
سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا محمد سراج الحسن کے انتقال پر جماعت اسلامی بیدر سمیت دیگر علاقوں کے امیر مقامی، ارکان و کارکنان اور وابستگان نے اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ مولانا محمد سراج الحسن کی وفات تحریک اسلامی اور ملت کا خسارہہے۔جنکی شخصیت ہمہ جہت پہلوؤں کا منبغ تھی۔ مؤثر خطابت، تعلقات مٰیں گرمجوشی، متوازن فکر اور سادہ لیکن محنتی مزاج ، ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
بتایا گیا ہے کہ وہ نوجوانی ہی میں جماعت سے وابستہ ہوگئے تھے۔ 26؍برس تک وہ حلقہ کرناٹک کے امیر رہے ، اس کے بعد انہیں مرکزی سکریٹری کی حیثیت سے مرکز جماعت اسلامی بلالیا گیا۔ 1990 سے 2003 تک انہوں نے کل ہند امیر کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی۔
انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاؤبورڈ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاروت، بابری مسجد رابطہ کمیٹی جیسے اداروں میں بھی سرگرم اور فعال کردار ادا کیا۔ ان کے اجداد کا تعلق ضلع بیدر سے تھا۔ وہ حلقہ کے امیر کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ضلع بیدر کے مختلف دیہی علاقوں کا بذریعہ سائیکل دورہ کرتے تھے، بیدر سے آپ کا خصوصی لگاؤ تھا اور وہاں کے تحریکی کاموں میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مختلف مذاہب کی نمایاں شخصیات سے ان کے گہرے روابط تھے۔
سابق امیر جماعت اور معروف مذہبی رہنما مولانا سراج الحسن کے انتقال پر آل انڈیا ملی کونسل اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نے اسے ملت کا عظیم خسارہ بتایا ۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ مولانا سراج الحسن صاحب ملت کے بہی خواہ ، دور اندیش اور ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے ۔ جماعت اسلامی ہند کو ترقی سے ہم کنار کرنے اور اس کے مشن کو آگے بڑھانے میں انہوں نے بخوبی کارنامہ انجام دیا اور جماعت کے کاز کو دانشمند ی ،حکمت عملی اور مکمل شعور کے ساتھ پروان چڑھایا ،کسی بھی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہونے دیا ۔وہ اپنی دورس سوچ ، حکمت عملی اور دانشمندانہ فیصلے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ڈاکٹر محمد منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ مرحوم سراج الحق سے ذاتی طور پر بھی ان کے گہرے تعلقات تھے ۔ طالب علمی کے زمانہ میں ہم ساتھ تھے ۔ملت کے مختلف مسائل میں ہم لوگ یکجا ہوئے اور کئی سارے اہم ایشوز کو مشترکہ طور پر سلجھانے میں کامیابی ملی۔ کئی ایک ذمہ داران نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے ان کی مغفرت کی دُعائیں کیں ہے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرنے کی بھی دعائیں کیں ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ مرحوم مولانا محمد سراج الحسن رائچور ایسٹ زون کے سرکل انسپکٹر فصیح الدین اور بھنڈاری ہاسپٹل کے اڈمنسٹریٹیو آفیسرڈاکٹرریاض الدین کے حقیقی ماموں تھے۔ پسماندگان میں 5 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے۔